فیکٹ چیک: لاہور میں 2020 میں لگی آگ کے ویڈیو کو ’آپریشن سندور’ سے جوڑتے ہوئے کیا جا رہا شیئر
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل ہونے والا ویڈیو سال 2020 کا لاہور کا ہے، جب ایل پی جی ٹینکر میں آگ لگنے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ اس وقت کی ویڈیو اب ایک جھوٹے دعوے کے ساتھ پھیلاتے ہوئے بھارت اور پاک کی موجودہ کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: May 12, 2025 at 05:12 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ بھارت اور پاکستان کے بیچ جاری کشیدگی کے درمیان سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر گمراہ کن اور جعلی دعووں کے ساتھ کئی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک جگہ پر زور دار دھماکے کے ساتھ شعلے بلند ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارتی کارروائی کی یہ ویڈیو پاکستان کے شہر لاہور کی ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل ہونے والا ویڈیو سال 2020 کا لاہور کا ہے، جب ایل پی جی ٹینکر میں آگ لگنے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ اس وقت کی ویڈیو اب ایک جھوٹے دعوے کے ساتھ پھیلاتے ہوئے بھارت اور پاک کی موجودہ کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔
وائرل پوسٹ میں کیا ہے؟
وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے ایک انسٹاگرام صارف نے لکھا کہ ’بھارتی فضائیہ نے لاہور کو دھوئیں میں بدل دیا‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال
اپنی تحقیقات شروع کرتے ہوئے، سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کے کی فریم نکالے اور انہیں گوگل لینز کے ذریعے تلاش کیا۔ تلاش کرنے پر یہ ویڈیو صحافی صبی کاظمی کے ایکس ہینڈل پر اپ لوڈ کی ہوئی ملی۔ یہاں یہ ویڈیو 8 مئی کو شیئر کی گئی تھی اور دی گئی معلومات کے مطابق، یہ لاہور پر بھارتی کارروائی کی ہے۔ اسی دوران ہمیں اس پوسٹ پر بہت سے کمینٹ ملے جن میں بتایا گیا کہ یہ ویڈیو پانچ سال قبل لاہور میں گیس ٹینکر کے لیکیج کی ہے۔
اس بنیاد پر، ہم نے اپنی تحقیقات کو آگے بڑھایا اور اسی طرح کی ویڈیوز کئی فیس بک پیجز اور یوٹیوب چینلز پر اپ لوڈ کی ہوئی ملیں۔ مارچ 2020 میں اپ لوڈ کی گئی ویڈیو کے مطابق، شاہدرہ میں ایک ایل پی جی کنٹینر گر کر تباہ ہو گیا اور آگ لگ گئی، شاہدرہ پٹرول پمپ اور رکشہ سٹینڈ جل گیا۔
تلاش کرنے پر ہمیں 25 مارچ 2020 کو ایک یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی گئی وائرل ویڈیو ملی۔ یہاں بھی یہ ایک ایل پی جی ٹینکر میں دھماکے کا معاملہ بتایا گیا ہے۔
ہماری خبروں کی تلاش میں ہمیں اس معاملے سے متعلق ایک خبر ملی ڈان نیوز کی ویب سائٹ پر 26 مارچ 2020 کو شائع ہوئی تھی۔ خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق، شاہدرہ پٹرول پمپ پر الٹنے والے ٹینکر سے ایل پی جی کے اخراج کے چند منٹ بعد زور دار دھماکہ ہوا، دھماکے میں ایک شخص جاں بحق اور ٹریفک وارڈن سمیت 10 افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق شاہدرہ موڑ پر پٹرول پمپ کے قریب ایل پی جی ٹینکر الٹ جانے کے باعث اس کے ٹینک سے بڑی مقدار میں گیس نکلنا شروع ہوگئی اور پٹرول پمپ پر جمع ہوگئی جس سے وہاں آگ لگ گئی‘‘۔
اے آر وائی ویب سائٹ پر 26 مارچ 2025 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق، ’’آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے ایل پی جی ٹینکر میں آتشزدگی کے واقعے پر لاہور میں تین کمپنیوں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ترجمان کے مطابق کمپنیوں نے قوانین اور قواعد پر عمل نہیں کیا اور ان سے ایک ہفتے میں وضاحت طلب کی گئی ہے‘‘۔
وائرل پوسٹ کی تصدیق کے لیے ہم نے پاکستانی صحافیہ فروا وحید سے رابطہ کیا اور انہوں نے تصدیق کی کہ یہ ویڈیو بہت پرانی ہے اور اس کا حالیہ واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
پی آئی بی کے ایکس ہینڈل کی 11 مئی 2025 کی پوسٹ میں نے آپریشن سندھ کے حوالے سے بھارتی فوج کے حکام کی پریس بریفنگ کی معلومات دی گئی ہے۔ اس کے مطابق ہندوستانی فضائیہ کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے کہا – 8 اور 9 مئی کی رات 10:30 بجے سے ہمارے شہروں پر ڈرون اور بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں سے بڑا حملہ کیا گیا، جس کا آغاز سری نگر سے نالیہ تک ہوا۔ یہ حملہ مسلسل جاری رہا۔ ہماری فضائی دفاعی تیاریوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ دشمن کے مقرر کردہ کسی بھی اہداف کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ ایک ناپاک ردعمل میں، ہم نے ایک بار پھر لاہور اور گوجرانوالہ کے قریب فوجی تنصیبات اور نگرانی کے ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔
اسی ہینڈل سے ایک اور پوسٹ کی گئی ہے جس میں بھارتی فوج کی جانب سے کی گئی کارروائی کی معلومات دی گئی ہیں۔ اس کے مطابق ایئر مارشل نے کہا- ہم نے چکلالہ، رفیکی، رحیم یار خان اور سکھر شمل پر حملہ کرکے واضح پیغام دیا کہ جارحیت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس کے بعد سرگودھا، بھولاری اور جیکب آباد پر حملے ہوئے۔
اب فرضی پوسٹ شیئر کرنے والے انسٹاگرام صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی باری تھی۔ ہم نے پایا کہ صارف کو 1664 لوگ فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل ہونے والا ویڈیو سال 2020 کا لاہور کا ہے، جب ایل پی جی ٹینکر میں آگ لگنے کا واقعہ سامنے آیا تھا۔ اس وقت کی ویڈیو اب ایک جھوٹے دعوے کے ساتھ پھیلاتے ہوئے بھارت اور پاک کی موجودہ کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔
- Claim Review : بھارتی کارروائی کی یہ ویڈیو پاکستان کے شہر لاہور کی ہے۔
- Claimed By : Instagram User- Shout and Beep
- Fact Check : جھوٹ
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











