X

فیکٹ چیک: کسان آندولن میں پہنچی یہ لڑکی اویسی کے منچ سے متنازعہ نعرہ لگانے والی امولیہ لیونا نہیں

  • By Vishvas News
  • Updated: February 14, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر دو تصاویر کا ایک کولاج وائرل ہو رہا ہے۔ اس میں ایک تصویر میں منچ پر اے آئی ایم آئی ایم کے صدر سدالدین اویسی کے ساتھ ایک لڑکی نظر آرہی ہے، جبکہ نیچے دوسری ایک گروپ فوٹو ہے، جس میں ایک لڑکی کے چہرہ پر نیلے رنگ کا گولا لگایا گیا ہے۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ وہی لڑکی ہے، جس نے اویسی کے منچ سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا تھا۔

وشواس نیوز نے پڑتال میں پایا کہ وائرل پوسٹ کے ساتھ کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ دونوں تصاویر میں نظر آرہی لڑکیاں الگ الگ ہیں۔ اویسی کے ساتھ دکھ رہی لڑکی کا نام امولیہ لیونا ہے، جبکہ دوسری تصویر میں نظر آرہی لڑکی کا نام ولرمتی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نکھل سکسینا نے یہ پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا: ’’جہادی اویسی کے منچ سے پاکستان زندہ باد کے نعرہ لگانے والی کا کسان آندولن میں کیا کام؟‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

پڑتال

وشواس نیوز نے پڑتل شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے وائرل کولاج میں سے پہلی تصویر کو کراپ کر اسے گوگل رورس امیج سرچ کی مدد سے تلاش کیا۔ ہمیں اس معاملہ سے متعلق متعدد خبریں ملیں، جس میں وائرل تصویر بھی استعمال کی گئی تھی۔ ان خبروں کے مطابق، کرناٹک کے بنگلورو کے فریڈم پارک میں سی اے اے کے خلاف ریلی چل رہی تھی، جہاں اویسی بھی موجود تھے۔ اسی دوران وہاں منچ پر ایک لڑکی نے پاکستان زدہ باد کے بعرے لگانا شروع کر دیا۔ اس لڑکی کی شناخت طالبہ لیڈر امولیہ لیونہ کے طور پر ہوئی، اس سے مائک چھین لیا یا اور پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ اس پر غداری کا معاملہ درج ہوا۔

اس کے بعد ہم نے وائرل پوسٹ کی دوسری تصویر کو کراپ کر گوگل رورس امیج سرچ کی مدد سے تلاش کیا۔ ہمیں ایک ٹویٹ میں یہ تصویر ملی۔ تمل میں لکھے اس ٹویٹ کے جواب میں ایک شخص نے لکھا تھا کہ وہ یہ لڑکی امولیہ نہی، بلکہ ولرمتی ہے۔

اس کے بعد ہم نے انٹرنیٹ پر ولرمتی کے بارے میں سرچ کرنا شروع کیا تو ہمیں جون 2018 کی کچھ میڈیا رپورٹس ملیں، جن میں اسٹوڈینٹ ایکٹیوسٹ ولرمتی کو حراست کرنے کی خبر تھی۔ ہمیں ولرمتی کے فیس بک اکاؤنٹ پر بھی وائرل تصویر ملی۔ انہوں نے یہ تصویر 26 جنوری کو پوسٹ کی تھی۔

وشواس نیوز نے مزید معلومات کے لئے فیس بک کے ذریعہ ولرمتی سے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وائرل تصویر ان کی ہی ہے وہ 26 جنوری کو کسان ٹریکٹر ریلی میں شامل ہونے کے بعد دہلی پہنچی تھی، جب یہ تصویر کھینچی گئی۔

اب باری تھی فیس بک پر اس پوسٹ کو شیئر کرنے والے فسی بک صارف نکھیل سکسینا کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ یہ تصویر اترپردیش کے بلند شہر کے کھرجا کا رہنے والا ہے۔

نتیجہ: وائرل تصاویر میں نظر آرہی لڑکیاں الگ الگ ہیں۔ اویسی کے پروگرام میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والی لڑکی امولیہ لیونا تھی، جبکہ کسان آندولن میں حصہ لینے پہنچی لڑکی کا نام ولرمتی ہے۔

  • Claim Review : جہادی اویسی کے منچ سے پاکستان زندہ باد کے نعرہ لگانے والی کا کسان آندولن میں کیا کام
  • Claimed By : निखिल सक्सैना
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later