X

فیکٹ چیک: ہندو رسومات کے ویڈیو کو کیا جا رہا کشمیری مسلمانوں سے جوڑ کر فرضی دعوی کے ساتھ وائرل

وشواس نیوز نے اس وائرل ویڈیو کی پڑتال کی تو ہم پایا کہ یہ پوسٹ فرضی ہے۔ وائرل ویڈیو کا کشمیر یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو اجین کا ہندو رسومات کے دوران کا ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: October 17, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں بہت سے لوگوں کے اوپر گائے کو چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو لوگوں کا ہجوم بھی نظر آرہا ہے۔ اب اسی ویڈیو کو یہ کہتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین وائرل کر رہے ہیں کہ یہ ہندوستان کے کشمیر کے مسلمان ہیں اور یہ انہیں کا ویڈیو ہے۔ جب وشواس نیوز نے اس وائرل ویڈیو کی پڑتال کی تو ہم پایا کہ یہ پوسٹ فرضی ہے۔ وائرل ویڈیو کا کشمیر یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو اجین کا ہندو رسومات کے دوران کا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل ویڈیو کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا، ’دل غمگین ہوتا ہے ، آنکھیں آنسو بہاتی ہیں ، اور ہم اس پر غمگین ہوتے ہیں جو ہماری قوم پر نازل ہوا۔ (اپنے ہاتھ اٹھائیں اور اپنے دل سے ان کے لیے دعا کریں) بھارت نے اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کے لیے انتباہ کا اعلان کیا کہ وہ فوری طور پر ’’ دہشت گردی ‘‘ خلاف یا زیادہ واضح طور پر ’’ اسلام ‘‘ کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی مہم کی تیاری کے لیے کشمیر چھوڑ دیں۔ بڑے قتل عام کی تیاری میں انٹرنیٹ اور مواصلات منقطع ہو گئے تھے۔انہوں نے ہیش ٹیگ کیے‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کو ان ویڈ ٹول میں اپ لوڈ کیا اور اس کے کی فریمس نکالے اور انہیں گوگل رورس امیج کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ ویڈیو ایک فیس بک پیج پر ملا۔ 10 نومبر 2018 کو اپ لوڈ ہوئے اس ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ایک گاؤں کے عقیدت مند ’گائے گوری پوجا‘ نام کی ایک ہندو رسم کے تحت جمع ہو ئے اور اس رسم میں گائے کو عقید مندوں کے اوپر چلایا جاتا ہے‘ ۔

اپنی پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے گوگل نیوز سرچ کیا اور ’گائے گوری پوجا‘ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں نوابھارت ٹائمس کے آفیشیئل یوٹیوب چینل پر وائرل ویڈیو ملا۔

کل دو مینٹ کے اس ویڈیو کو 10 نومبر 2018 کو اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ اور اس کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ’مدھیہ پریدش اور اترپردیش کے کچھ گاؤں میں گائے گوری پوجا ہوتی ہے اسے کا یہ ویڈیو ہے‘۔

نیوز سرچ میں ہمیں اے این آئی کی ویب سائٹ پر بھی یہ ویڈیو ملا۔ یہاں ویڈیو کو مدھیہ پردیش کے اجین کا بتایا گیا۔ خبر کی ساتھ دی گئی تفصیل کے مطابق، ’ایک گاؤں کے درجنوں عقیدت مندوں نے ایک مخصوص رسم کے طور پر درجنوں گایوں کو اپنے اوپر چلنے دیا۔ ہندو تہوار ‘گاے گوری’ پوجا کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر مکین سڑکوں پر جمع ہوئے۔ گاؤں کے لوگ پھر اس عجیب و غریب رسم میں حصہ لیتے ہیں ، جہاں وہ لیٹ جاتے ہیں اور گاؤں کی تمام گائیں، پوجا کرنے کے بعد ان پر چلنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ رسم گائوں کی برکت لانے کے لیے سمجھی جاتی ہے جسے ہندو ایک اوسط دیہاتی کی زندگی کا لازمی حصہ ہونے کی وجہ سے ماں سمجھتے ہیں‘۔ مکمل خبر یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

وشواس نیوز نے وائرل ویڈیو سے جڑی تصدیق حاصل کرنے کے لئے ہمارے ساتھی نئی دنیا اجین کے بیورو چیف سوریہ پرتاپ نارائن سے رابطہ کیا اور وائرل ویڈیو ان کے ساتھ شیئر کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا یہ ویڈیو گئے گوری پوجا کا ہے جسے ہندو مذہب کے لوگ مناتے ہیں۔ اسے دیوالی کے کچھ روز بعد یا اگلے دن منایا جاتا ہے۔ منت پوری ہونے پر شخص زمین پر لیٹ جاتے ہیں اور پھر گائے ان پر سے گزرتی ہے۔

وائرل ویڈیو کے ساتھ یہ بھی دعوی کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے تمام مذاہب کے لوگوں سے کشمیر کو چھوڑنے کا علان کیا ہے، یہ دعوی بالکل غلط ہے۔ اس دعوی کے فیکٹ چیک وشواس نیوز اس سے قبل بھی کر چکا ہے۔ فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔

فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج ’المدينة المنورة للحج والعمرة‘ کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ اس پیج کو721,622 لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اس وائرل ویڈیو کی پڑتال کی تو ہم پایا کہ یہ پوسٹ فرضی ہے۔ وائرل ویڈیو کا کشمیر یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو اجین کا ہندو رسومات کے دوران کا ہے۔

  • Claim Review : کشمیر کا ویڈیو
  • Claimed By : المدينة المنورة للحج والعمرة
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later