X

فیکٹ چیک: یوپی کے سی ایم کے ساتھ نظر آرہے شخص کا کانپور انکاؤنٹر سے نہیں ہے تعلق، وائرل پوسٹ فرضی ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: July 6, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ یوپی کے کانپور ضلع میں 8 پولیس اہلکاروں کے قتل کے بعد سے ہی ملزم وکاس دبے کے نام پر متعدد جعلی پوسٹیں وائرل ہو رہی ہیں۔ یو پی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ کھڑے ایک شخص کو 8 پولیس اہلکاروں کے قتل کا ذمہ دار بتاتے ہوئے وکاس دوبے بتایا جا رہا ہے۔

وشواس نیوز کی جانچ میں پتہ چلا کہ وائرل تصویر میں یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ کھڑے شخص کا نام پنڈت وکاس دوبے ہے، لیکن یہ شخص کانپور معاملہ کے ملزم وکاس دوبے نہیں ہے۔ تصویر میں دکھ رہے شخص بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے لیڈر ہیں۔ ان کی تصویر کو کچھ لوگ جان بوجھ کر ملزم وکاس دوبے کے نام پر وائرل کر رہے ہیں۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’مجیب الرحمان‘ نے 3 جولائی کو ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’اندھ بھکتوں یوگی جی اور وکاس دوبے کے لئے آپ کے کیا خیالات ہیں جو کانپور میں شہید ہوئے 8 پولیس جوانوں کا قاتل ہے‘‘۔ علاوہ ازیں شیئر کردہ تصویر پر لکھا ہے، ’’تصادم میں وکاس دوبے کا چچیرہ بھائی اور ماما ہلاک، پولیس سے لوٹی گئی پوستول ملی‘‘۔

مذکورہ فرضی پوسٹ کو اب تک 958 صارفین شیئر کر چکے ہیں۔

پڑتال

وشواس نیوز نے سب سے پہلے وائرل ہو رہی تصویر کو رورس امیج سرچ کرنا شروع کیا۔ ہمیں یہ تصویر وکاس دوبے بی جے پی ٹو کے فیس بک اکاونٹ پر ملی۔ تصویر کو 15 نومبر 2019 کو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔

جب ہم نے اس فیس بک اکاونٹ کی جانچ کی تو پتہ چلا کہ وکاس دوبے نام کے یہ شخص بھاجپا یووا مورچہ کے کانپور بندیلکھنڈ کے مقامی لیڈر ہیں۔

اسی اکاونٹ پر ہمیں وکاس دوبے کا ایک حالیہ ویڈیو ملا۔ اس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ کچھ لوگوں نے ملزم وکاس دوبے سے ان کا نام جوڑتے ہوے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ تمام کے خلاف مقدمہ درج کروانے جا رہے ہیں۔ یہ ویڈیو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔ ویڈیو کو وکاس دوبے نے اپنے فیس بک پیج پر بھی اپ لوڈ کیا ہے۔

وشواس نیوز نے بی جے پی لیڈر وکاس دوبے سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ میری فوٹو کو جھوٹے دعووں کے ساتھ وائرل کرنے والوں کو میں چھوڑوں گا نہیں۔ اس معاملہ میں جلد مقدمہ کرایا جائےگا ۔ وزیر عالی یوگی کے ساتھ کی یہ تصویر 2019 کی ہے۔

اس کے بعد ہم نے اس وکاس دوبے کی تصویر سرچ کرنی شروع کی، جسے پکڑنے کے چکر میں پولیس اہکاروں کی جان چلی گئی۔ ہمیں جاگرن ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر ایک خبر میں اس کی تصویر ملی۔

اس کے بعد وشواس نیوز نے بدمعاش وکاس دوبے اور بی جے پی لیڈر وکاس دوبے کی تصویر کو ملایا۔ ہمیں پتہ چلا کہ دونوں لوگ الگ الگ ہیں۔ تصویر میں بائیں جانب دکھ رہا شخص ملزم وکاس دوبے ہے جس کی تلاش میں پولیس گئی تھی، جبکہ دائیں جانب والے وکاس دوبے بی جے پی لیڈر ہیں۔

تفتیش کے آخری مرحلہ میں ہم نے تصویر کے اندرد لکھے ہوئے دعوی’’تصادم میں وکاس دوبے کا چچیرہ بھائی اور ماما ہلاک، پولیس سے لوٹی گئی پوستول ملی‘‘ کی نیوز سرچ کے ذریعہ تفتیش کی۔ سرچ میں ہمارے ہاتھ ٹائمس ناؤ کی ایک خبر لگی جس کی سرخی تھی
‘‘Kanpur: Police confirm history-sheeter Vikas Dubey’s uncle and cousin killed in encounter’’

خبر میں بتایا گیا کہ، ’’کانپور پولیس نے جمعہ کے روز تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وکاس دوبے کے ماما پریم پرکاش عرف پریم کمار پانڈے اور چچیرہ بھائی اتول دوبے، پولیس کے ساتھ ہوئے تصادم میں ہلاک ہو گئے۔ مکمل خبر آپ یہاں پڑھیں۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی دعوی کے ساتھ شیپئر کرنے والے فیس بک صارف مجیب الرحمان کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کو 1076 صارفین فالوو کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس پروافائل سے ایک مخصوص آئڈیولاجی کی جانب متوجہ پوس کو شیئر کیا جاتا ہے

نتیجہ: وشواس نیوز کی جانچ میں پتہ چلا کہ کانپور کے ڈان وکاس دوبے کے نام پر وائرل تصویر بھاجپا یووا موریہ کے لیڈر وکاس دوبے کی ہے۔ ان کی تصویر کو کچھ لوگ 8 پولیس اہلکاروں کے ذمہ دار بدمعاش وکاس دوبے کے نام پر وائرل کر رہے ہیں۔ وائرل پوسٹ فرضی ہے۔

  • Claim Review : اندھ بھکتوں یوگی جی اور وکاس دوبے کے لئے آپ کے کیا خیالات ہیں جو کانپور میں شہید ہوئے 8 پولیس جوانوں کا قاتل ہے
  • Claimed By : FB User- Mujeeb Ur Rehman
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later