بھارت کے خلاف پاکستانی اکاؤنٹس سے پھیلائے گئے دعووں کا سچ
بھارت کے بارے پاکستان کے سوشل میڈیا ہینڈلز سے پھیلائی گئے ایسے ہی کئی ویڈیو کا وشواس نیوز نے وقتاً فوقتاً فیکٹ چیک کیا ہے۔ اس معاملہ سے منسلک پانچ فیکٹ چیک اس آرٹیکل میں پڑھے جا سکتے ہیں۔
- By: Umam Noor
- Published: Nov 28, 2024 at 05:40 PM
- Updated: Jan 29, 2025 at 05:17 PM
نئی دہل (وشواس نیوز)۔ بھارت اور پاکستان کے رشتے پیچیدہ رہے ہیں، حالاںکہ اکثر ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان میں موجود سوشل میڈیا صارفین بھارت کے خلاف پروپیگنڈہ کے تحت فرضی اور گمراہ کن ویڈیو پھیلاتے رہتے ہیں۔ کبھی پاکستانی صارفین کی جانب سے دعوی کیا جاتا ہے کہ بھارت کے گجرات سے مسلمان خوف میں ہجرت کر رہے ہیں تو کبھی لوک سبھا کے ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اپوزیشن کی لڑائی کا بتایا جاتا ہے۔
بھارت کے بارے پاکستان کے سوشل میڈیا ہینڈلز سے پھیلائی گئے ایسے ہی کئی ویڈیو کا وشواس نیوز نے وقتاً فوقتاً فیکٹ چیک کیا ہے۔
آپ کو بتاتے چلیں کی ہم نے تین بنیادوں پر یہ ثابت کیا ہے کہ ان تمام پوسٹ کو شیئر کرنے والے صارفین کا تعلق پاکستان سے ہے۔
پہلا: صارف کی بایو میں دی گئی لوکیشن۔
دوسرا: صارف کے جانب کی گئی سوشل میڈیا پوسٹست
تیسرا: صارف کے دوستوں کی فہرست۔
چوتھا۔ جیو لوکیشن۔
اب بات کرتے ہیں ایسے پانچ فرضی اور گمراہ کن دعووں کے بارے میں جو بھارت کے بارے میں پاکستانی صارفین کی جاب سے کئے گئے۔
پہلی پوسٹ

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں مسجد کے ایک حصے کو گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں پولیس اہلکار سمیت کچھ لوگ بھی آس پاس کھڑے ہوئے نظر آئے۔ ویڈیو کو پاکستان سے شیئر کرتے ہوئے صارفین نے دعوی کیا کہ یہ ویڈیو دہلی کی سنگ مر مر مسجد کا ہے جسے آر ایس ایس کے لوگوں نے شہید کر دہا۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ دہلی کی سنگ مر مر مسجد کی نیو کمزور ہونے کی وجہ سے خود سے مسجد کا ایک حصہ منہدم ہو گیا تھا۔ مسجد کو شہید کئے جانے کا دعویٰ فرضی اور فرقہ وارانہ پروپیگنڈہ ہے۔
اس پوسٹ کو شیئر کرنے والے صارف کے اکاؤنٹ لنک کو یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔
دوسری پوسٹ

گزشتہ کچھ مہینوں میں بنگلہ دیش میں چلے متنازعہ کے بیچ پاکستان صارفین کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کیا گیا ۔ ویڈیو میں متعدد بسوں کو جلتے ہوئے دیکھا جا سکتاہے۔ ویڈیو کے ساتھ پاکستانی سوشل میڈیا ہینڈلز سے دعوی کیا گیا کہ یہ ویڈیو مغربی بنگال سے بنگلہ دیش جا رہی بسوں کا ہے جنہیں بھارت میں نذرآتش کر دیا گیا۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2019 کا اس وقت کا جب مغربی بنگلہ کے ہاوڑہ میں شہریت قانون کے خلاف چل رہے مظاہروں کے درمیان متعدد بسوں کو نذرآتش کر دیا گیا تھا۔ پرانے اور دیگر معاملہ کے ویڈیو کو گمراہ کن حوالے کے ساتھ پاکستان سے پھیلایا گیا۔
اس پوسٹ کو شیئر کرنے والے صارف کے اکاؤنٹ لنک کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔
تیسری پوسٹ

پاکستان کے صارفین کی جانب سے ایک ویڈیو شیئر کیا گیا جس میں پارلیمنٹ کے اندر ارکان پارلیمنٹ کو ایک شخص کو پیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ دعوی کیا گیا کہ کشمیر کے فیصلے پر انڈیا میں سپریم کورٹ اور وزیر اعظم مودی کے خلاف اپوزیشن نے احتجاج کیا تو مودی نے اپنے لوگوں کے ساتھ مل کر اپوزیشن کی پٹائی کروا دی۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ وائرل ویڈیو اس وقت کا ہے جب پارلیمنٹ میں روزگار کے مطالبہ کے ساتھ کچھ لوگ داخل ہو گئے تھے، تبھی وہاں موجود رکن پارلیمنٹ نے شخص کی پٹائی کر دی تھی۔ مذکورہ معاملہ کے ویڈیو کو اب پاکستان سے فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا گیا۔
اس پوسٹ کو شیئر کرنے والے صارف کے اکاؤنٹ لنک کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔
چوتھی پوسٹ

پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک بینر کے ساتھ بہت سے لوگوں کو ریلی نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئےدعوی کیا گیا کہ آئین ہند کی آرٹیکل 370 کی منسوخی اور کشمیر کی ’’آزادی‘‘ کے مطالبہ کو لے کر گزشتہ روز بنگلہ دیش کے ڈھاکہ میں ایک ریلی نکالی گئی ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ بنگلہ دیش کے ڈھاکہ میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف یہ احتجاج سال 2019 میں ہوا تھا۔ پرانے ویڈیو کو بھارت کے خلاف نئے طریقہ سے وائرل کیا گیا
اس پوسٹ کو شیئر کرنے والے صارف کے اکاؤنٹ لنک کو یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔
پانچویں پوسٹ

پاکستان میں موجود صارفین کی جانب سے ایک ویڈیو وائرل کیا گیا جس میں سڑک پر کچھ لوگوں کو چلتے ہوئے دیکھا گیا اور ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سن سکتے ہیں کہ یہ ’میں ناثر شیخ بات کر رہا ہوں پیرانہ درگاہ سے۔ یہاں پورا گاؤں ہجرت کر رہا ہے۔ یہاں تین چار سو آر ایس ایس کے لوگ گاؤں میں آگئے ہیں جس کے ڈر سے گاؤں ہجرت کر رہا ہے‘۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین نے دعوی کیا کہ بھارت کے گجرات میں مسلمان خوف میں ہجرت کر رہے ہیں۔
جبکہ ہم نے اپنی پڑتال میں پایاکہ یہ ویڈیو گجرات کے پیرانہ مسجد کو لےکر ہوئے ایک مظاہرہ کا ہے۔ پیرانہ گاؤں کے مسلمان ہجرت نہیں کر رہے تھے، یہ دعوی بالکل فرضی ہے۔ وائرل ویڈیو والے شخص نے فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے جھوٹ پھیلایا۔ حالاںکہ بعد میں ایک دیگر ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہوئے شخص نے خود واضح بھی کیا ہے کہ اس کا دعوی فرضی تھا۔
اس پوسٹ کو شیئر کرنے والے صارف کے اکاؤنٹ لنک کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











