جنگ کے بیچ اسرائیلی شہر تیل ابیب کو لے کر وائرل ہوئے کئی گمراہ کن دعوے
اسرائیل کا فلسطین، ایران اور لبنان کے ساتھ جاری تنازعات کے درمیان، سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور فرضی دعوو ں کا سیلاب آ گیا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Dec 13, 2024 at 06:26 PM
- Updated: Jan 29, 2025 at 05:17 PM
اسرائیل کا فلسطین، ایران اور لبنان کے ساتھ جاری تنازعات کے درمیان، سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور فرضی دعووں کا سیلاب آ گیا ہے۔ پرانے ویڈیو اور تصاویر کو موجودہ حالات سے جوڑ کر شیئر کیا جا رہا ہے۔ کئی بار کسی اور معاملہ سے متعلق ویڈیو کو نیا بتا کر وائرل کیا گیا تو کبھی کسی دیگر حملہ کی تصویر کو غلط دعوی کے ساتھ پھیلایا گیا۔
اس آرٹیکل میں ہم اسرائیل کے شہروں خاص طور پر تل ابیب کے حوالے سے وائرل ہوئی تصاویر اور ویڈیو کا فیکٹ چیک کا ذکر کریں گے جنہیں موجودہ حالات کا بتاکر پھیلایا گیا۔ وشواس نیوز نے وقتا فوقتا ایسے متعدد فیکٹ چیک کرتے ہوئے سچائی سامنے لائی ہے۔ آج ہم آپ کو کچھ ایسے ہی دعووں کی پڑتال کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں۔
پہلی پوسٹ
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری تنازع کے درمیان حزب اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے تل ابیب پر میزائل حملہ کیا ہے۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی، جس میں ایک جگہ پر زور دار دھماکہ دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر شیئر کرتے ہوئے صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ تصویر اسرائیلی شہر تل ابیب میں ہوئے حملے سے متعلق ہے۔
اسی دوران وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ یہ تصویر اسرائیل کے تل ابیب میں حالیہ حملے کی نہیں ہے۔ وائرل تصویر نومبر 2023 کی ہے جب اسرائیلی شہر کریات شمونہ میں حملہ ہوا تھا۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔
دوسری پوسٹ
اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے پیچ ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک عمارت میں آگ لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔ ویڈیو کو صارفین شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ تل ابیب کی ایک مشہرو فیکٹری میں آگ لگائی گئی ہے اور یہ اسی کا ویڈیو ہے۔
جبکہ وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو سال 2021 کا ہے، اس کا حالیہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔
تیسری پوسٹ
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک بے لگام ٹرک کو لوگوں کو روندتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے وہاں پر افرا تفری مچ جاتی ہے۔ ویڈیو کو اسرائیل اور حماس کی حالیہ جنگ سے جوڑ کر صارفین شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ اسرائیل کے تل ابیب میں قائم فوجی اڈے گلیلوٹ بیس میں فوجیوں کے حملہ کا منظر ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل ویڈیو کے ساتھ کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو سال 2017 کا ہے، اس کا موجودہ جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔
چوتھی پوسٹ
وہیں وائرل ہوئے ایک دیگر ویڈیو میں ایک جگہ پر زبردست دھماکہ ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین کے ذریعہ دعوی کیا گیا کہ یہ ویڈیو حزب اللہ کا اسریئلی شہر پر کئے گئے میزائل حملوں کا ہے۔
وشواس نیوز نے اب اس ویڈیو کی پڑتال کی تو سچائی کچھ اور ہی نکلی۔ ہم نے پایا کہ ویڈیو کے ساتھ کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو یمن کا اگست 2024 کا ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔
پانچویں پوسٹ
اسرائیلی شہر تل ابیب کا بتاتے ہوئے ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں ایک بہت بڑا علاقہ اور آس پاس کی عمارتوں کو آگ لگتی دیکھی جا سکتی ہے۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ ویڈیو حزب اللہ کی جانب سے تیل ابیب میں بنی اسرائیلی فوجی فیکٹری پر حملے کا ہے۔
تاہم وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو فروری 2024 میں فلسطین کے شہر ہیبرون میں ایک فیکٹری میں لگنے والی آگ کی ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھیں۔
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











