X
X

وراٹ کوہلی سے متعلق وائرل گمراہ کن پوسٹس کی حقیقت

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز اکثر ایسے تنازعات کا سبب بنتی ہیں جن کی حقیقت سے عوام ناواقف ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایک تصویر گردش کر چکی ہے جس میں کچھ لوگ ایک سبز رنگ کا بینر تھامے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس پر لکھا ہے: ہمیں کشمیر نہیں چاہئے، وراٹ کوہلی دے دو ہمیں۔ لیکن وشواس ٹیم کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ بینر دراصل فوٹوشاپ کیا گیا تھا۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Mar 18, 2025 at 12:24 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز اکثر ایسے تنازعات کا سبب بنتی ہیں جن کی حقیقت سے عوام ناواقف ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایک تصویر گردش کر چکی ہے جس میں کچھ لوگ ایک سبز رنگ کا بینر تھامے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس پر لکھا ہے: ہمیں کشمیر نہیں چاہئے، وراٹ کوہلی دے دو ہمیں۔ لیکن وشواس ٹیم کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ بینر دراصل فوٹوشاپ کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ، رمضان کے دوران وراٹ کوہلی کا ایک ایڈ بھی وائرل ہو رہا، جس میں انہیں رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ حالاںکہ جب نے اپنی پڑتال کی تو اس کی حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔ وشواس نیوز نے ان تمام وائرل ہوئے دعووں کی گہرائی میں جاکر تحقیق کی ہے، اور اس آٹیکل میں ہم وراٹ کوہلی سے متعلق وائرل ہونے والی کچھ دعووں پر روشنی ڈالیں گے، جن کی ہم نے تفصیلی جانچ پڑتال کی اور ان کی سچائی کو عوام کے سامنے لائے۔

پہلی پوسٹ

 وراٹ کوہلی اور انوشکا شرما کے دوسری بار والدین بننے کے بعد وراٹ کوہلی کے گھر بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے، جس کا نام انہوں نے اکائے رکھا۔ اس دوران کئی فرضی اور گمراہ کن دعوے وائرل ہوئے۔ سوشل میڈیا پر وراٹ کوہلی کی ایک بچے کے ساتھ تصویر وائرل ہوئی جس کو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ اس تصویر میں وراٹ کے بیٹے اکائے ان کے ساتھ ہیں۔

جبکہ وشواس نیوز کی جانچ میں وائرل دعویٰ جھوٹا پایا گیا۔ اصل تصویر میں وامیکا وراٹ کوہلی کے ساتھ ہیں، جسے اب اکائے کوہلی کے طور پر شیئر کیا گیا۔

مکمل فیکٹ چیک آرٹیکل یہاں دیکھیں۔

دوسری پوسٹ

سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم فیس بک پر کٹرٹر وراٹ کوہلی کے نام سے ایک ٹویٹ کا اسکرین شاٹ وائرل ہوا۔ اس ایکس پوسٹ میں وراٹ کوہلی کا پروفائڈ ہینڈل بنا ہوا تھا اور اس میں ان کی جانب سےلکھا ہوا تھا کہ انہوں نے پاکستانی کرکٹر بابر اعظم سے ویڈیو کال کے ذریعہ بات کی اور بابر اعظم نے وراٹ کی کرکٹ کی تکنیکی خامیوں کو درست کیا۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ایک پوسٹ (ٹویٹ) پوری طرح سے فرضی ہے۔ وراٹ کوہلی کی جانب سے پاکستانی کرکٹر بابر اعظم سے منسلک ایسا کوئی پوسٹ نہیں کی گئی۔

تیسری پوسٹ

 رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اسی بیچ کرکٹر وراٹ کوہلی کی لوگوں سے گلے ملنے اور سلام کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ پوسٹ کو حالیہ بتایا جا رہا ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں سب کو رمضان کی مبارکباد دی گئی ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔ یہ ویڈیو تقریباً آٹھ سال پرانی ہے اور یہ کپڑے کے برانڈ مانیور کے اشتہار کی ہے۔ اشتہار کا پرانا ویڈیو اب گمراہ کن دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔

مکمل فیکٹ چیک آرٹیکل یہاں دیکھیں۔

چوتھی پوسٹ

گزشتہ سال کولکتہ کے ایک اسپتال میں ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل کے معاملے میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کئی مشہور شخصیات نے بھی آواز اٹھائی۔ اس دوران کرکٹر وارٹ کوہلی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں انہیں خواتین کی حفاظت پر بات کرتے سنا جا سکتا ہے۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صارفین نے دعویٰ کیا کہ وراٹ کوہلی نے کولکتہ کیس کے حوالے سے یہ ویڈیو شیئر کیا۔

وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ وراٹ کوہلی کا وائرل ویڈیو سال 2017 کا ہے۔ انہوں نے یہ ویڈیو اس وقت جاری کیا تھا جب بنگلورو میں نیو ایئر پارٹی کے بعد لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ خانی کا واقعہ سامنے آیا تھا۔

مکمل فیکٹ چیک آرٹیکل یہاں دیکھیں۔

پانچویں پوسٹ

سوشل میڈیا کے الگ- الگ پلیٹ فارمز پر اکثر ایک تصویر وائرل ہوتی رہتی ہے۔ اس تصویر میں کچھ لوگ ایک سبز رنگ کا بینر پکڑے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہیں بینر پر لکھا ہے کہ ہمیں کشمیر نہیں چاہئے۔ وراٹ کوہلی دے دو ہمیں۔ اس فوٹو کو اصل سمجھتے ہوئے پاکستان کے لوگوں کی بتا کر شیئر کیا جاتا رہا ہے۔

حالاںکہ وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ بینر فوٹوشاپڈ ہے۔ یعنی یہ اصل بینر نہیں ہے۔ اصل تصویر کے ساتھ ایڈیٹنگ کر کے اسی فرضی بنایا گیا ہے۔

مکمل فیکٹ چیک آرٹیکل یہاں دیکھیں۔

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later