X

فیکٹ چیک: دہلی فسادات پر بی بی سی کی رپورٹ تریپورہ فرقہ وارانہ تشدد کے نام پر غلط دعوی کے ساتھ وائرل

وشواس نیوز کی جانچ میں یہ دعویٰ جھوٹا نکلا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو کا تعلق تریپورہ سے نہیں ہے، بلکہ دہلی کے فسادات سے متعلق ہے، جسے تریپورہ کے نام پر جھوٹے اور اشتعال انگیز دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: November 4, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق تریپورہ میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد سے ہے۔ ہنگاموں کے بعد املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ ویڈیو میں کئی پولیس اہلکاروں کو کچھ نوجوانوں کو بے رحمی سے پیٹتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

وشواس نیوز کی جانچ میں یہ دعویٰ جھوٹا نکلا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو کا تعلق تریپورہ سے نہیں ہے، بلکہ دہلی کے فسادات سے متعلق ہے، جسے تریپورہ کے نام پر جھوٹے اور اشتعال انگیز دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارف ‘خادم راجہ خان تاجی’ نے لکھا، ’’دلال میڈیا نے تریپورہ فسادات پر کچھ نہیں بتایا، لیکن بی بی سی نیوز نے پول کھول دی ۔‘‘۔

مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بہت سے دوسرے صارفین نے بھی اس ویڈیو کو اسی طرح کے دعووں کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ ٹویٹر پر کئی دوسرے صارفین نے بھی اس ویڈیو کو تریپورہ کے اسی دعوے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

پڑتال

ویڈیو میں بی بی سی کا لوگو نظر آرہا ہے اور اس واقعے کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی کو یہ کہتے ہوئے صاف سنا جاسکتا ہے کہ یہ رپورٹ دہلی فسادات سے متعلق ہے۔

ایک تلاش میں، ہمیں یہ ویڈیو بی بی سی نیوز انڈیا کے ویری فائڈ ٹویٹر پروفائل پر اپ لوڈ کیا ہوا ملا۔

3 مارچ 2020 کو اپ لوڈ کردہ ویڈیو بلیٹن کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق یہ رپورٹ دہلی کے فسادات سے متعلق ہے۔ یہ رپورٹ فسادات کے بعد کی زمینی رپورٹ ہے۔ ویڈیو بلیٹن میں رپورٹر کو واضح طور پر دہلی اور دہلی پولیس کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ تین منٹ 20 سیکنڈ کے اس ویڈیو بلیٹن کے ایک حصے کو ایڈیٹنگ کی مدد سے الگ کر کے اسے تریپورہ فرقہ وارانہ تشدد کے نام پر وائرل کیا جا رہا ہے۔

ہمارے ساتھی دینک جاگرن میں رپورٹر شجاع الدین نے ان فسادات کی رپورٹنگ کی تھی۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’وائرل ہونے والی ویڈیو کا تعلق دہلی فسادات کی رپورٹنگ سے ہے۔‘ بی بی سی ہندی کے نیوز روم میں کام کرنے والے ایک صحافی نے بھی بتایا کہ یہ رپورٹ دہلی فسادات سے متعلق ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ تریپورہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد تریپورہ پولس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے جاری ایک ویڈیو اپیل میں لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فیس بک اور ٹویٹر پر کسی قسم کی افواہیں نہ پھیلائیں۔ تاہم اس کے باوجود سوشل میڈیا پر گمراہ کن یا جھوٹے دعوؤں کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیے جانے کا رجحان کم نہیں ہوا۔

تریپورہ سے متعلق دیگر فیکٹ چیک کی رپورٹ وشواس نیوز کی ویب سائٹ پر پڑھی جا سکتی ہے۔

وائرل ویڈیو کو جھوٹے دعوے کے ساتھ شیئر کرنے والے صارف کو فیس بک پر 200 سے زائد لوگ فالو کرتے ہیں۔ اس کا پروفائل فروری 2016 سے سرگرم ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز کی جانچ میں یہ دعویٰ جھوٹا نکلا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو کا تعلق تریپورہ سے نہیں ہے، بلکہ دہلی کے فسادات سے متعلق ہے، جسے تریپورہ کے نام پر جھوٹے اور اشتعال انگیز دعوے کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : میڈیا نے تریپورہ فسادات پر کچھ نہیں بتایا، لیکن بی بی سی نیوز نے پول کھول دی
  • Claimed By : خادم راجہ خان تاجی
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later