X

فیکٹ چیک: دہلی میں فدائن کے پکڑے جانے کا دعویٰ غلط، افغانی دہشت گرد کی تصویر کو چھاپہ ماری کے پرانے معاملہ سےجوڑ کر کیا جا رہا وائرل

  • By Vishvas News
  • Updated: April 20, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر خود کش حملہ آور کی ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے، جسے لے کر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ تصویر دہلی میں چھاپہ ماری میں پکڑے گئے فدائین کی ہے۔ وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) نے دہلی اور اتر پردیش پولیس کی مدد سے دہلی اور اترپردیش کے کئے علاقوں میں چھاپہ ماری کی اورکل 16 لوگوں کو گرفتار کیا۔

وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ دعویٰ گمراہ کرنے والا نکلا۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’ہرش پنڈ‘ نے تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’ڈوبھال ایسے ہی نہیں گھوم رہے تھے گلیاں اور مہیلوں میں، جب ہم اور آپ سو رہے تھے… قومی جانچ ایجسی این آئی اے نے دہلی اور یو پی پولیس کی مدد سے گزشتہ رات دہلی کے سیلم پور اور یو پی کے امروہا میں چھاپہ ماری کی اور 16 لوگوں کو گرفتار کیا…ان میں ایک انجینئرنگ کا طالب علم، امروہا مسجد کا مولوی ایک یونیورسٹی کا طالب علم، کئی ویلڈر اور آٹو ڈرائیور شمل ہیں۔ چھاپہ ماری میں سیلم پور دہلی میں ایک ریکٹ لانچر، دیگر جگہوں پر 25 کلوں وسفوٹ کرنے واکا ذخیرہ، 150 فون، 300 سم کارڈ، 200 الارم گھڑیاں اور لوہے کے پتلے پائپ، ٹنوں کیلیں ملیں…علاوہ ازیں 8 لاکھ روپیے کیش بھی ملا…بڑے بڑے ویلڈنگ مشین سے پائپ بم بنے رہے تھے، سوسائڈ ویسٹ اور ٹائمر والے بم ملے ہیں اور آٹو والے سامانے پہنچانے میں لگے تھے…گروہ کے سربراہ مفتی نے بتایا کہ ان کا ہینڈلر دبئی میں رہتا ہے…اگر آپ اسے صرف فساد مان رہے ہیں کہ توآپ بڑے بھولے ہیں…یہ جنگ ہے…‘‘۔

پوسٹ کا آرکائیو ورژن یہاں دیکھیں۔

پڑتال

فیس بک پوسٹ میں استعمال کی گئی تصویر کی حقیقت جاننے کے لئے ہم نے اسے رورس امیج سرچ کیا۔ نتائج میں ہمیں 10 نومبر 2010 کو شائع ہوئی ایک خبر کا لنک ملا، جس میں اس تصویر کا استعمال کیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق، یہ تصو یر افغانستان کے فراہ صوبہ میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں پکڑے گئے فدائین کی ہے۔

اس کے بعد ہم نے وائرل ہوسٹ میں لکھے دعویٰ کی پڑتال کے لئے نیوز سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں متعدد پرانی خبروں کے لنک ملے، جس کے مطابق، این آئی اے نے اترپردیش اور دہلی میں 16 جگہوں ہر چھاپہ ماری کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، این آئی اے نے دہشت گرد تننظیم اسلامک اسٹیٹ کے نئے ماڈیول حرکت الحربہ اسلام کے خلاف جاری جانچ میں اترپردیش کے امروہا اور دہلی میں کئی جگہوں ہر سرچ آپریشن چلایا۔

آوٹ لک ہندی میں شائع ہوئی خبر

رپورٹ کے مطابق، چھاپہ ماری کے بعد 16 لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد 10 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعہ مارے گئے چھاپوں پر این آئی اے کے آئی جی آلوک متل نے بتایا، ’’ماڈیول کے گینگ لیڈر کا نام مفتی سوحول ہے، جو دہلی میں رہتا ہے اور امروہا کا رہائشی ہے، جہاں وہ ایک مسجد میں کام کرتا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید بتایا ،’’چھاپہ ماری میں 7.5 لاکھ روپیے، 100 موبائل اور 135 سم کارڈ برآمد کئے گئے ہیں۔ انہوں نےبتایا کہ کچھ ٹھکانوں پر تلاشی اب بھی جاری ہے۔

این آئی اے کے آئی جی آلوک متل نے بتایا، ’’ہم نے اترپردیش اور دہلی میں 17 جگہوں پر تلاشی لی اور ماڈیول سیئرئل بلاسٹ کرنے کی ایڈوانس اسٹیج میں تھے۔ دہلی کے سیلم پور اور اترپردیش کے امروہا، میرٹھ اور لکھنئو میں تلاشیاں لی گئیں۔ بھاری مقدار میں وسفوٹ کرنے والی اشیہ، ہتھیار اور گولا بارود برآمد ہوا ہے، جن میں دیسی راکیٹ لانچر بھی شامل ہے‘‘۔

معلومات کے مطابق، دہلی کے جافرآباد، سیلم پور اور یو پی کے امروہا میں آئی ایس آئی ایس ماڈیول سے منسلک ٹھکانوں پر یہ کاروائی کی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سرچ آپریشن آین آئی اے کے علاوہ اترپردشی اینٹی ٹرریزم کی ٹیم بھی شامل ہے۔

نیوز ایجنسی اے این آئی کے ٹویٹر ہینڈل پر 26 دسمبر 2018 کو کئے گئے ٹویٹ میں این آئی اے کی جانب سے چلائے گئے سرچ آپریشن اور چھاپہ ماری سے منسلک معلومات دی گئی ہے۔

اسی تاریخ کو کئے گئے ایک دیگر ٹویٹ میں اترپردیش کے امروہا میں این آئی اے کے سرچ آپریشن کی تصویر کو دیکھا جا سکتا ہے

یعنی وائرل پوس میں استعمال کی گئی تصویر افغانستان میں پکڑے گئے فادئین کی ہے، حالاںکہ اترپردیش اور دہلی میں این آئی اے کے چھاپہ کا معاملہ 2018 کا ہے۔ وشواس نیوز نے اس معاملہ کو لے کر دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کے ڈی سیی پی پرمود کوشواہا سے بات کی۰ انہوں نے تبایا، ’’اس تصویر کا دہلی پولیس کے آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسے کسی شخص کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا، ’’یہ سب سوشل میڈیا پر چلنے والی فرضی معلومات ہے‘‘۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو وائرل کرنے والے فیس بک صارف ’ہرش پنڈت‘ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کا تعلق اندور سے ہے علاوہ ازیں اس پروفائل سے ایک مخصوص آئیڈیولاجی کی جانب متوجہ خبروں کو شیئر کیا جاتا ہے۔

نتیجہ: دہلی اور اترپردیش میں این آئی اے کے چھاپہ ماری میں خود کش انسانی بم کو پکڑے جانے کے دعویٰ کے ساتھ وائرل ہو رہی پوسٹ گمراہ کن ہے۔ وائرل ہو رہی پوسٹ میں جس تصویر کا استعمال کیا گیا ہے وہ افغانستان کے فراہ صوبہ میں 2010 میں پکڑے گئے فدائن کی ہے۔ پوسٹ میں دہلی اور اترپردیش میں این آئی اے کے جس چھاپہ کا ذکر کیا گیا ہےڈ وہ معاملہ بھی 2018 کا ہے۔

  • Claim Review : ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے، جسے لے کر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ تصویر دہلی میں چھاپہ ماری میں پکڑے گئے فدائین کی ہے
  • Claimed By : FB User- Harsh Pandit
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later