X
X

سیریا میں تختہ پلٹ کے بعد وائرل ہوئے متعدد گمراہ کن پوسٹ

سیریا میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے مسلسل اس معاملہ سے متعلق ویڈیو اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Dec 31, 2024 at 05:28 PM
  • Updated: Jan 29, 2025 at 05:17 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سیریا میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے مسلسل اس معاملہ سے متعلق ویڈیو اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔ کبھی صیدنایا جیل کا بتاتے ہوئے گمراہ کن حوالے سے ویڈیو شیئر کی گئیں تو کبھی سابق صدر بشار الاسد کی ان کی اہلیہ کے ساتھ پرانی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ یہ ان کے ماسکو میں پہنچنے کے بعد کی فوٹو ہے۔

وشواس نیوز نے ایسی متعدد گمراہ کن اور فرضی دعوی کے ساتھ پھیلائی گئی پوسٹ کا فیکٹ چیک کیا ہے۔ ہماری رپورٹ یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

پہلی پوسٹ

سیریا میں تختہ پلٹ کے بعد صیدنایا جیل کئی لوگوں کو باہر نکالا گیا۔ اسی بیچ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیو اور تصاویر وائرل وہیں۔ اسی کڑی میں صارفین کی جانب سے ایک ایک ویڈیو شیئر کیا گیا جس میں ایک شخص کو کسی سرنگ جیسی قید سے مبینہ طور پر باہر آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ یہ سیریا کی صیدنایا جیل کا قیدی ہے جو گزشتہ 13 سالوں سے جیل میں قید تھا اور اب اسے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باہر نکالا گیا ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل ویڈیو اصل نہیں ہے۔ بلکہ اسے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ اے آئی ویڈیو کو فرضی دعوی کے ساتھ سیریا کی صیدنایا جیل سے رہا ہوئے قیدی کا بتاتے ہوئے فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا گیا ہے۔

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

دوسری پوسٹ

ملک سیریا میں بشار الاسد کی حکومت گرنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی۔ وائرل فوٹو میں سابق صدر بشار الاسد اور ان کی اہلیہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ دونوں کی یہ تصویر ماسکو ایئرپورٹ کی ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ سیریا کے سابق صدر بشار الاسد اور ان کی اہلیہ کی تصویر سال 2023 کی ہے۔ یہ تصویر اس وقت کی ہے جب وہ سیریا کے صدر تھے اور زلزلہ متاثرین کے ملنے کے لئے حلب پہنچے تھے۔

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

تیسری پوسٹ

 سیریا کے دمشق میں موجود صیدنایا جیل کے حوالے سے ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک جیل کے اندر کے منظر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین نے دعوی کیا کہ یہ سیریا کے دشمق میں قائم صیدنایا جیل کا منظر ہے جہاں پر لوگ بشار الاسد کی حکومت میں قید کئے گئے تھے۔

وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ وائرل ویڈیو کا سیریا کی صیدنایا جیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو ویتنام کی جیل کا ہے جسے میوزیم میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ وائرل ویڈیو میں جیل کے اندر نظر آرہا شخص اصلی نہیں بلکہ ایک قیدی کا ایک مجسمہ ہے۔

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

چوتھی پوسٹ

سیریا میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمہ کے بعد سے مسلسل اس معاملہ سے متعلق ویڈیو اور تصاویر وائرل ہوئیں۔ اسی کڑی میں ایک ویڈیو شیئر کیا گیا جس میں ایک عمارت سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین نے یہ دعوی کیا کہ دمشق کے وسط میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی عمارت اور جنرل اسٹاف کی عمارت میں جھڑپوں کا یہ منظر ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ ویڈیو مارچ 2013 کا ہے۔ اور یہ ویڈیو اس وقت کا ہے جب دمشق کی اس عمارت میں حملہ ہوا تھا۔

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

پانچویں پوسٹ

سیریا کی صیدنایا جیل کے حوالے سے وائرل ہوئے ویڈیو کی فہرست کافی لمبی ہے۔ اسی کڑی میں ایک شخص کا ویڈیو وائرل ہو ہے جس میں انہیں ظاہری طور پر بےحد خراب حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین کے ذریعہ دعوی کیا گیا کہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جنہیں سیریا میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد جیل سے آزاد کیا گیا ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ وائرل ویڈیو سال 2014 کا اور سیریا میں فلسطینی پناہ گزین کیمپ کا ہے۔ اس ویڈیو کو گمراہ کن دعوے کے ساتھ سیریا میں حکومت کے خاتمے کے بعد صیدنایا جیل سے آزاد ہونے والے قیدیوں کا حوالہ دیتے ہوئے شیئر کیا گیا۔

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later