مسلمانوں پر ظلم ہونے کے کئی فرضی دعوے ہوئے وائرل ہوئے، یہاں پڑھیں ہماری تحقیقات
سوشل میڈیا پر اکثر ہی ایسے ویڈیو وائرل ہوتے رہتے ہیں جن کا تعلق کسی اور معاملہ سے ہوتا ہے لیکن انہیں کبھی جان بوجھ کر تو کبھی انجانے میں فرضی دعوی کے ساتھ پھیلا دیا جاتا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Feb 11, 2025 at 06:11 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر آئے روز ایسے ویڈیوز وائرل ہوتے رہتے ہیں جن کا تعلق کسی ایک واقعہ سے ہوتا ہے، لیکن انہیں کبھی جان بوجھ کر تو کبھی انجانے میں فرضی دعووں کے ساتھ پیش کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ ویڈیوز مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے نام پر پھیلائے جاتے ہیں، جنہیں حقیقت سمجھ کر صارفین بڑی تعداد میں شیئر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کبھی پولیس کی کسی کارروائی کا ویڈیو بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو کبھی میجک شو کے ویڈیو کو فرقہ وارانہ رنگ دے دیا جاتا ہے۔
وشواس نیوز نے ایسے ہی کئی وائرل ویڈیوز کی حقیقت کا پتہ لگایا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم پانچ ایسے ہی معاملات پر روشنی ڈالیں گے، جن کی ہم نے تفصیلی تحقیق کی اور سچائی کو بے نقاب کیا۔
پہلا فیکٹ چیک
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں کچھ لوگوں کو چین سے باندھا جاتا ہے اور پھر کرین کے ذریعہ اوپر پہنچایا جاتا ہے۔ اس ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کو بھی کھڑے دیکھ سکتے ہیں اور پھیچے ایک مسجد بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے صارفین نے دعوی کیا کہ یہ کشمیر کا ویڈیو ہے اور وہاں مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے۔
حالاںکہ جب وشواس نیوز نے اس ویڈیو کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ ویڈیو کشمیر کا نہیں ہے اور نا ہی کسی ظلم کا ہے۔بلکہ مذکورہ ویڈیو کیرالہ کے مالاپورم میں 2008 میں ہوئے میجک شو کا ہے، جہاں لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ اسی شو کے ویڈیو کے ایک حصہ کو فرضی دعوی کے ساتھ وائرل کیا گیا۔
مکمل خبر یہاں پڑھیں۔
دوسرا فیکٹ چیک
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں کچھ لوگ عورت کو پیٹتے ہوئے نظر آئے۔ ویڈیو میں ایک پولیس اہلکار بھی کھڑا نظر آیا۔ وہیں ویڈیو کے ساتھ دعوی کیا گیا کہ یہ ایک فرقہ وارانہ معاملہ ہے جہاں دوسرے مذاہب کے لوگ ایک مسلمان عورت کو پیٹ رہے ہیں۔
اپنی تحقیقات میں وشواس نیوز نے ویڈیو کے ساتھ کیے جانے والے دعوے کو جھوٹا پایا۔ یہ اترپردیش کے بلرام پور میں خاندانی تنازعہ سے متعلق تھا اور اس واقعے کا کوئی فرقہ وارانہ ا زاویہ نہیں تھا۔ پولیس نے تصدیق بھی کی کہ ملزم اور متاثر دونوں ہندو ہیں اور ایک ہی خاندان سے ہیں۔
مکمل خبر یہاں پڑھیں۔
تیسرا فیکٹ چیک
سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں ایک بڑے سے میدان میں بہت سے لوگوں کا خون کو بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین نے تصویر کوشیئر کرتے ہوئے کشمیر کے حوالے سے کچھ اس دعوی کے ساتھ پھیلایا کہ یہ تصویر کشمیر پر مسلمانوں کے ظلم کی ہے۔ اور اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے صارفین نے دعوی کیا کہ ہندوستان نے تمام مذاہب کے لوگوں سے کشمیر کو چھوڑنے کے لئے کہا ہے تاکہ وہاں فوجی کاروائی کر کے مسلمان آبادی کو دہشت گردی کے نام پر مارا جا سکے۔
وشواس نیوز نے اس پوسٹ کی پڑتال کی اور ہم نے پایا کہ یہ تصویر عید الاضحی کے وقت کی ہے اور اس فوٹو کا تعلق انسانوں کے قتل یا خون سے بھی نہیں ہے۔ بلکہ یہ تصویر عید الاضحی میں قربان کئے جانوروں سے متعلق تھی جسے فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا گیا۔
مکمل خبر یہاں پڑھیں۔
چوتھا فیکٹ چیک
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی جس میں دو الگ- الگ ویڈیو تھے۔ پہلے ویڈیو میں بہت سے لوگوں کے درمیان لڑائی ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں وائرل کئے گئے دوسرے ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار ایک شخص کو بےدردی سے پیٹتے ہوئے نظر آئے۔ وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے صارفین نے اسے بھارت اور مسلمان سے جوڑ کر شیئر کیا۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کئے جا رہے ان دونوں ہی ویڈیو کا بھارت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ دونوں ہی پاکستان کے ویڈیو ہیں۔ پہلا ویڈیو وکلاء اور ان کے کلانئٹ کے بیچ لڑائی کا ہے وہیں دیگر ویڈیو بھی پاکستان پولیس کی بربریت سے متلق کا ہے۔
مکمل خبر یہاں پڑھیں۔
پانچواں فیکٹ چیک
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک شخص کو پولیس اہلکار گاڑی کی جانب لے جاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہیں کچھ لوگ اس شخص ڈنڈے مارتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین نے دعوی کیا کہ یہ ویڈیو ہماچل پردیش کا ہے جہاں مسلم نوجوان پر یہ ظلم ہوا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو کا ہماچل پردیش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو مغربی بنگال کا اس وقت کا ہے جب دو گروہوں کے درمیان جھڑپ ہو گئی تھی اور پولیس نے کچھ لوگوں پر کاروائی کی تھی۔ اسی وقت کے ویڈیو کو فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا گیا۔
مکمل خبر یہاں پڑھیں۔
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











