X
X

بھارت کے تناظر میں طالبان سے متعلقہ وائرل ہو چکے ہیں کئی دعوے

بھارت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر طالبان سے متعلق کئی پوسٹس اور دعوے وائرل ہوتے رہتے ہیں، جن میں سے اکثر غلط یا گمراہ کن معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Mar 27, 2025 at 04:06 PM

بھارت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر طالبان سے متعلق کئی پوسٹس اور دعوے وائرل ہوتے رہتے ہیں، جن میں سے اکثر غلط یا گمراہ کن معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان میں طالبان کی طرف سے بھارت کو دھمکیاں دینے سے لے کر تاریخی مجسموں کی تعمیر نو تک کے فرضی پوسٹ شامل ہیں۔

وشواس نیو نے ان میں سے کئی وائرل ہونے والی پوسٹس کی حقیقت جاننے کے لیے ان کی پڑتال کی ہے اور پایا ہے کہ یہ تمام دعوے جھوٹے یا گمراہ کن ہیں۔ ذیل میں ہم نے طالبان سے متعلق چار ایسی ہی وائرل پوسٹس کی حقیقت پیش کی ہے، جنہیں اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر بار بار شیئر کیا جاتا رہا ہے۔

پہلی پوسٹ

افغانستان پر ہوئے طالبان کے کنٹرل کے فورا بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک گروپ کے لوگو ہندوستان کو دھمکی دیتے ہوئے نظر آئے۔ ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ اگر ہندوستان نے ’پاکستان کو کوئی نقصان پہنچایا تو وہ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ کشمیر تو چھوٹا سا حصہ ہے ہم نے افغانستان کو فطح کیا’۔ اب اسی ویڈیو کو طالبان کنٹرول کے بعد حالیہ معاملہ سمجھتے ہوئے شیئر کیا گیا اور ساتھ میں دعوی کیا گیا کہ طالبان نے ہندوستان کو دھمکی دی ہے۔

وشواس نیوز نے جب اس ویڈیو کی پڑتال کی تو پایا کہ یہ ویڈیو فروری 2019 سے سوشل میڈیا پرموجود ہے اس کا افغانستان پر ہوئے طالبان کنٹول سے تعلق نہیں ہے۔

مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔

دوسری پوسٹ

سال 2022 میں سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی، جس میں بدھا کا ایک بڑا مجسمہ نظر آیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے ایک سال میں بامیان کا بدھا بنا دیا اور یہ وہاں کی تصویر ہے۔ بامیان کے بدھ 6ویں صدی عیسوی میں وسطی افغانستان کی وادی بامیان میں ایک چٹان سے تراشے گئے تھے اور 1400 سال تک تقریباً 180 فٹ بلند رہے۔ طالبان نے اسے 2001 میں بھاری دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ طالبان حکومت نے اب اس مجسمے کو دوبارہ تعمیر کر دیا۔

وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پتہ چلا ہے کہ پوسٹ میں مہاتما بدھ کی وائرل تصویر ممبئی کے کنہیری غاروں کی ہے نہ کہ افغانستان کی وادی بامیان کی۔

مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔

تیسری پوسٹ

بھارتیہ سوشل میڈیا پر اکثر ہی ایک شخص کا ویڈیو وائرل ہوتا رہتا ہے، جس میں اسے بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے بارے میں بات کرتے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ شخص طالبان کا چیف سیکرٹری ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں وائرل دعویٰ فرضی پایا۔ ویڈیو میں نظر آرہے شخص پاکستانی سکالر خالد محمود عباسی ہیں۔ ہم سے بات کرتے ہوئے انہوں نے خود وائرل ویڈیو میں کیے جانے والے دعوؤں کو فرضی قرار دیا۔

مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔

چوتھی پوسٹ

سال 2022 میں سوشل میڈیا پر ایک خط کی تصویر وائرل ہوئی جس میں دعوی کیا گیا کہ طالبان نے یہ خط جاری کرتے ہوئے ہندوستان میں جہاد کا اعلان کیا ہے۔

حالاںکہ جب وشواس نیوز نے اس پوسٹ کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ خط فرضی ہے۔ طالبان نے ایسا کوئی خط جاری نہیں کیا۔ اور یہ خط کئی سالوں سے سوشل میڈیا پر اسی غلط دعوے کے ساتھ وائرل ہے۔

مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later