یو پی سے لے کر دہلی کے اسکولوں تک ہو چکے ہیں کئی فرضی وارانہ دعوے وائرل، پڑھیں رپورٹ
سوشل میڈیا پر اکثر ہی اسکولوں اور مدارس کو لے کر کئی طرح کے گمراہ کن دعوی وائرل ہوتے رہتے ہیں۔ ان وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے کبھی صارفین فرضی وارانہ دعوی کرتے ہیں تو کبھی ایسی پوسٹ کے ذریعہ کسی حکومت پر نشانہ سادھا جاتا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Jan 30, 2025 at 02:06 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر اکثر ہی اسکولوں اور مدارس کو لے کر کئی طرح کے گمراہ کن دعوی وائرل ہوتے رہتے ہیں۔ ان وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے کبھی صارفین فرضی وارانہ دعوی کرتے ہیں تو کبھی ایسی پوسٹ کے ذریعہ کسی حکومت پر نشانہ سادھا جاتا ہے۔ وشواس نیوز نے گزشتہ کئی برسوں میں اسی موضوع پر ایسے متعدد فیکٹ چیک کئے ہیں۔ انہیں میں پانچ چند فیکٹ چیک کو اس آرٹیکل میں پڑھا جا سکتا ہے۔
پہلی پوسٹ
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک اسکول کے ڈرامے کی کلپ کئی بار وائرل چکی ہے۔ وائرل ویڈیو میں ایک بچے کو بھارت ماتا کا لباس زیب تن کیے ہوئے لڑکی کے سر سے تاج اتارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں صارفین اس ویڈیو کو فرقہ وارانہ دعووں کے ساتھ پھیلاتے ہوئے شیئر کر دعوی کرتے ہیں کہ یہ دہلی کے ایک اسکول میں منعقد ہونے والے ڈرامے کا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ وائرل ویڈیو وائرل لکھنؤ کے ایک اسکول میں ہوئے پلے کا ہے۔ اس ڈرامے میں تمام مذاہب کے احترام اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام دیا گیا تھا۔ اس ویڈیو کے ایک حصے کی ادھوری کلپ فرضی دعوے کے ساتھ پھیلائی گئی ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھا سکتے ہیں
دوسری پوسٹ
اگست 2022 میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلم کمیونٹی کے کچھ بچے کلاس روم میں بیٹھے ہیں۔ اس ویڈیو کو شیئر کرکے دعویٰ کیا گیا کہ یہ کیجریوال کے اسکول کا ماڈل ہے۔ دہلی کے وجے نگر کے ایک اسکول میں ایک خاص برادری کے کچھ لوگ مذہبی سرگرمیاں کرتے ہوئے پکڑے گئے۔
جبکہ وشواس نیوز نے وائرل پوسٹ کی جانچ کی اور پتہ چلا کہ وائرل ویڈیو کے بارے میں جو دعویٰ کیا جا رہا تھا وہ غلط ہے۔ ویڈیو اتر پردیش کے شہر غازی آباد کا تھا۔ اس ویڈیو کا دہلی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھا سکتے ہیں
تیسری پوسٹ
جب بھی انتخابات آتے ہیں اس سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر فرضی خبروں کا سیلاب آجاتا ہے۔ آسام سمیت دیگر ریاستوں میں 2021 کے انتخابات سے قبل ایک پوسٹ وائرل ہوئی جس میں وزیر اعظم مودی کی تصویر بنی تھی اور پیچھے کچھ بچوں کو قران شریف پڑھتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ صارفین نے پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ آسام میں تمام مدارس کو بند کر دیا جائےگا۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ آسام میں ’سبھی‘ مدارس کو بند کئے جانے کا دعوی گمراہ کن ہے۔ آسام ریاست میں پاس ہوئے ایک آرڈینینس کے مطابق، ’’ریاست کے ذریعہ چلائے جا رہے تمام سرکاری مدارس کو بند کیا جائےگا۔ حالاںکہ، ذاتی اور این جی او کے ذریعہ چلنے والے مدرسے چلتے رہیں گے‘‘۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھا سکتے ہیں
چوتھی پوسٹ
اتر پردیش کے سرکاری اسکولوں کی بدحالی کے حوالے سے ایک اسکول کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس میں اسکول کے کچھ بچوں کو کیچڑ میں بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ صورتحال اتر پردیش کے ایک سرکاری اسکول کی ہے۔
جبکہ نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل تصویر کے ساتھ کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ وائرل فٹو پاکستان کے ایک سرکاری سکول کی تھی۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھا سکتے ہیں
پانچویں پوسٹ
سال 2022 کے جولائی میں جھارکھنڈ کے اسکول میں نماز ادا کئے جانے کے بعد تنازعہ کے بعد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ وائرل ویڈیو میں یونیفارم میں بچوں کو اسکول کے صحن میں اذان دیتے ہوئے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ ویڈیو جھارکھنڈ کے ایک اسکول کا ہے جہاں غیر ملسم بچوں کو زبردستی اذان بھی دلائی جارہی ہے۔
جبکہ وشواس نیوز کی جانچ میں یہ دعویٰ گمراہ کن نکلا۔ وائرل ہونے والا ویڈیو آسام کے جورہاٹ میں واقع ایک اسکول کا تھا، جسے جھارکھنڈ کے نام پر گمراہ کن دعوے کے ساتھ وائرل کیا گیا۔
مکمل فیکٹ چیک یہاں پڑھا سکتے ہیں
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











