رمضان مبارک میں وائرل ہونے والے متعدد گمراہ کن دعوے
وشواس نیوز نے اپنی فیکٹ چیکنگ رپورٹس میں ان میں سے کئی وائرل ہو چکے دعووں کا فیکٹ چیک ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم رمضان کے دوران گردش کرنے والی پانچ گمراہ کن پوسٹس کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں مسجد کے اندر لڑائی کا ویڈیو، ایران سے منسوب کیا گیا راشن کا معاملہ، کعبہ میں فرشتوں کے نظر آنے کا دعویٰ، مسجد میں ہونے والی لڑائی اور ترکیہ کے ایک امام پر حملے کا واقعہ شامل ہیں۔
- By: Umam Noor
- Published: Mar 26, 2025 at 04:12 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ رمضان المبارک کے دوران سوشل میڈیا پر مختلف قسم کی وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر اکثر غلط معلومات یا گمراہ کن حوالوں سے پھیلائی جاتی ہیں۔ ان میں سے کچھ کو پرانے واقعات کو نئے سرے سے پیش کیا جاتا ہے، تو کچھ کو غلط مقام یا سیاق و سباق کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔
وشواس نیوز اپنی اس فیکٹ چیک رپورٹ میں ان میں سے کئی وائرل ہو چکے دعووں کا ذکر کر رہا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم رمضان کے دوران گردش کرنے والی پانچ گمراہ کن پوسٹس کے بارے میں جانیں گے، جن میں مسجد کے اندر لڑائی کا ویڈیو، ایران سے منسوب کیا گیا راشن کا معاملہ، کعبہ میں فرشتوں کے نظر آنے کا دعویٰ، وغیرہ سے متعلق پوسٹ شامل ہیں۔
پہلی پوسٹ
گزشتہ سال رمضان میں ایک امام کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں نماز کے دوران ان پر بلی چڑھ کر کھیلنے لگتی ہے اور وہ اس کو محبت سے سہلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو کو سوشل میڈیا پر موجو متعدد صارفین نے سعودی عرب اور ترکیہ سے منسوب کرتے ہوئے وائرل کیا۔
جبکہ وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا تھا کہ وائرل ویڈیو سعودی عرب یا ترکیہ کا نہیں بلکہ الجزائر کا تھا۔
مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔
دوسری پوسٹ
ماہ رمضان کے شروع ہوتے ہی ایک مرتبہ پھر سے سوشل میڈیا پر میدان میں رکھے راشن کی تصویر وائرل ہوئی۔ وائرل تصویر کو ایران حکومت کی تعریف کرنے کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کیا گیا کہ ایران میں ضرورت مندوں کے لئے راشن اس طرح کھلے میدان میں رکھ دیا جاتا ہے۔ اور اس راشن کو پانے کے لئے کسی بھی رجسٹریشن یا راشن کارڈ کی سرکار کی جانب سے ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ تصویر مغربی افریقہ کے ملک گامبیا کے ایک خیراتی فاؤنڈیشن کی جانب سے ضرورت مندوں کے لئے رکھے گئے راشن کی ہے۔ یہ ایک پرانی فوٹو ہے اور اس کا ایران یا وہاں کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔
تیسری پوسٹ
رمضان کے دوران سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ ایک ویڈیو وائرل ہوا۔ ویڈیو کے شروعاتی فریمس میں کبعہ شریف میں موجود لوگوں کا منظر ہے وہیں باقی کے دیگر فریمس میں تصاویر کا استعمال کیا گیا۔ صارفین نے ویڈیو کلپ کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ افتاری کے بعد خانہ کعبہ میں فریشوں کی حاضری ہوئی ہے یہ اسی کا ویڈیو ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ ویڈیو میں فرشتے نظر آنے کے دعوی کے ساتھ استعمال کی گئی تصاویر ایڈیٹڈ ہیں۔
مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔
چوتھی پوسٹ
رمضان شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر متعدد پرانے اور دیگر معاملہ سے متعلق ویڈیو اور تصاویر گمراہ کن حوالے سے وائرل ہوئی۔ اسی کڑی میں ایک ویڈیو شیئر کیا گیا جس میں ایک مسجد کے اندر نمازیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر چپل، چوتے اور سامان پھینکتے ہوئے نظر آئے۔ اب اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ مسجد میں ہوئی لڑائی کا یہ ویڈیو رمضان میں پڑھی جانے والی تراویح کے دوران کا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ مسجد میں دو گرپوں کے درمیان ہوئی جھڑپ کا یہ ویڈیو ستمبر 2024 کا بنگلہ دیش کے ڈھاکہ کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو رمضان میں گمراہ کن حوالے سے پھیلایا گیا۔
مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔
پانچویں پوسٹ
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک مسجد کے اندر کا ویڈیو وائرل ہوا۔ وائرل ہوئے اس ویڈیو میں کچھ لوگ امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہیں، ایک شخص امام کو اسٹول سے بار بار مارتا ہوا نظر آرہا ہے۔ لیکن جیسے ہی نمازی سلام پھیرتے ہیں تو اس شخص کو وہاں رکھی ہوئی چیزوں سے پیٹنے لگتے ہیں ایسا ہوتے ہی وہ شخص وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ ویڈیو کو رمضان کے دوران شیئر کرتے ہوئے ترکیہ کا حالیہ معاملہ بتایا جا رہا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2024 کا ستمبر کے مہینہ کا ہے۔ ترکیہ کے مانیسا شہر کی ایک مسجد میں یہ معاملہ سامنے آیا تھا۔ حالاںکہ وہاں کی پولیس نے اس معاملہ میں پایا کہ امام پر اسٹول سے حملہ کرنے والے شخص کی ذہنی حالت درست نہیں تھی اور اسے منٹل ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ پرانے ویڈیو کو رمضان کے دوران گمراہ کن حوالے سے پھیلایا گیا۔
مکمل آرٹیکل یہاں پڑھیں۔
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











